Pages

Sunday, 9 October 2011

ٹیسٹ پوسٹ

ہر سال 16 دسمبر آتا ہے، مشرقی پاکستان کی یادیں تازہ ہوتی ہیں۔ قائد کے پاکستان کے ٹوٹنے کی وجوہات زیر غور آتی ہیں اور بالآخر “رات گئی بات گئی” کی طرح ختم ہو جاتی ہیں لیکن ہم نے کبھی ان وجوہات سے سبق حاصل کرنے اور موجودہ صورتحال میں انہی غلطیوں کو دہرانے سے بچنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی اور بہت ساری باتیں ایسی بھی ہیں جنہیں بہت کم زیر غور لایا جاتا ہے۔ اب آزادئ اظہار رائے کا دور ہے، بہت سارے پہلوؤں پر کھلے عام بحث کی جا رہی ہے ورنہ کچھ عرصہ قبل تک عام آدمی کے ذہن میں تصور ہی یہی تھا کہ بنگالیوں نے پاکستان سے غداری کی جس کے نتیجے میں پاکستان ٹوٹا۔ میں کچھ عرصہ قبل جماعت اسلامی پاکستان کے سابق نائب امیر، جو ڈھاکہ میں جماعت کے امیر بھی رہ چکے ہیں، خرم مراد صاحب کی خود نوشت “لمحات” پڑھ رہا تھا۔ مرحوم کیونکہ خود ڈھاکہ میں رہ چکے تھے اور اُن ایام کو اپنی نظروں سے دیکھ چکے تھے جس میں یہ عظیم سانحہ رونما ہوا اس لیے ان کی کتاب اس حوالے سے بہت اہمیت کی حامل ہے۔

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔